اردو خبر دنیا

امریکی فوجی سربراہ نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کی, دونوں فوجی رہنماؤں میں کیا باتیں ہوئیں؟

اس بات چیت سے دونوں افواج کے درمیان وسیع تر تعلقات بحال ہونے کی امید ہے۔ امریکی فوجی سربراہ نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں غلط تجزیہ سے بچنے کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین چارلس کیو براؤن نے پیپلز لبریشن آرمی کے جنرل لیو ژینلی کے درمیان ویڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے جمعرات کے روز ہونے والی یہ گفتگو ایک سال سے زیادہ عرصے میں پہلی بات چیت تھی۔

اگست 2022 میں اس وقت کی امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے خود مختار تائیوان کے دورے کے بعد بیجنگ نے اس طرح کے اعلیٰ سطحی مذاکرات روک دیے تھے۔

تاہم گزشتہ ماہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان معاہدے کے بعد دونوں ممالک بالآخر یہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہو گئے تھے۔ اس بات چیت سے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان وسیع تر تعلقات بحال ہونے کی امید ہے۔

دونوں فوجی رہنماؤں میں کیا باتیں ہوئیں؟
براؤن کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، امریکی فضائیہ کے جنرل چارلس کیو براؤن اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی(پی ایل اے) کے جنرل لیو ژینلی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنی گفتگو کے دوران “عالمی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے متعدد مسائل” پر بات کی۔

لیو سنٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) کے جوائنٹ اسٹاف ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی ہیں۔ جس پر چین کی جنگی کارروائیوں اور منصوبہ بندی کی ذمہ داری ہے۔

امریکی ترجمان کیپٹن جیریل ڈورسی نے ایک بیان میں کہا کہ براؤن نے “مسابقت کا ذمہ داری سے انتظام کرنے، غلط اندازوں سے بچنے اور بات چیت کے لیے کھلی اور براہ راست لائنوں کو برقراررکھنے کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔”

انہوں نے کہا، “جنرل براؤن نے غلط فہمیوں کے امکانات کو کم کرنے کے لیے ٹھوس مکالمے میں پیپلز لبریشن آرمی کی شمولیت کی اہمیت کا اعادہ کیا۔”

براؤن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ انہوں نے جنرل لیو کو ایک خط بھیجا ہے جس میں کہا ہے کہ وہ ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

چینی فوجی سربراہ نے کیا کہا؟
چینی وزارت دفاع کی جانب سے جمعرات کو دیر رات گئے جاری ایک بیان کے مطابق لیو نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان صحت مند، مستحکم اور پائیدار فوجی تعلقات کو فروغ دینے کی کلید امریکہ کے “چین کے بارے میں صحیح فہم” میں موجود ہے۔

بات چیت کے دوران لیو نے امریکہ سے چین کی علاقائی خودمختاری اور بحیرہ جنوبی چین میں وسیع بحری حقوق اور مفادات کا احترام کرنے پر بھی زور دیا۔

چین تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال بھی کرسکتا ہے۔

‘مثبت پیش رفت’
پنٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائیڈر نے براؤن اور لیو کے درمیان جمعرات کے روز ہونے والی بات چیت کو “مثبت پیش رفت” قرار دیا اور کہا کہ دونوں فریق شی جن پنگ اور جو بائیڈن کے اعلان کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔

رائیڈر کا کہنا تھا،”جب آپ کے پاس دو بڑی فوجیں ہوں تو یہ ضروری ہے کہ ہم غلط اندازوں کو روکنے کے لیے بات چیت کے ذرائع کو کھلا رکھیں۔”

دریں اثنا امریکی حکام نے خبر دار کیا کہ اعلیٰ فوجی رہنماؤں کے درمیان بات چیت بحال ہونے کے باوجود دونوں فریق کے درمیان ایک فعال بات چیت کو فروغ دینے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، جو تائیوان سے لے کر بحیرہ جنوبی چین اور تجارت تک مختلف مسائل پر اختلافات کا شکار ہیں۔

اس سال دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کی وجہ سے گوکہ امریکہ اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی فوجی رابطے منقطع ہوگئے تھے لیکن دیگر امریکی حکام بیجنگ کے ساتھ رابطے میں تھے اور نچلی سطح پر فوجی بات چیت بھی جاری تھی۔