اردو خبر خاص

بھارت میں نوجوان نسل بہت زیادہ تناؤ محسوس کرتی ہے

بھارت میں نوجوان نسل عمر رسیدہ افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ تناؤ محسوس کرتی ہے۔ ایک نوجوان کا تو یہ کہنا ہے کہ ‘ہمیں تو اس دنیا کے بارے میں علم ہی نہیں جو کھڑی چٹان پر نہ ٹکی ہو۔’

ممبئی کی ایک تھیٹر آرٹسٹ میگھنا اے ٹی ایک انٹرایکٹو شو ”پلان بی/ سی/ ڈی/ ای” کی خالق ہیں۔ پورے شو کے دوران وہ ماحولیات سے متعلق پریشانیوں کے بارے میں بات کرتی ہیں اور اپنے سامعین کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

28 سالہ میگھنا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”مجھے سامعین میں لوگوں سے یہ پوچھنا پسند ہے کہ انہوں نے پہلی بار موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں کب سنا۔ حبکہ بڑی عمر کے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے 40 یا 50 کی دہائی میں اس کے بارے میں سنا تھا، میرے جیسے بہت سے نوجوان اس مسئلے کے بارے میں سنتے ہوئے بڑے ہو چکے ہیں اور ہمیں ایسی زندگی یاد بھی نہیں، جہاں ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ حقیقی طور پر ہمیں کبھی بھی ایسی دنیا کے بارے میں معلوم ہی نہیں، جو کھڑی چٹان پر نہ ٹکی ہو۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمارے پاس دنیا بھر سے معلومات اور خبروں تک بہت زیادہ رسائی ہے۔ باخبر اور بیدار رہنا ضروری بھی ہے، تاہم بعض اوقات یہ بہت زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔”

ایک بھارتی ادارے ‘آئی سی آئی سی آئی لومبارڈ’ جو بھارت میں بیمہ کرنے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے ایک اسٹڈی کی ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں نئی صدی میں پیدا ہونے والے اور نئی نسل کے لوگ پرانی نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تناؤ اور اضطراب کا شکار ہیں۔

اس اسٹڈی میں تقریباً 77 فیصد بھارتیوں نے تناؤ کی کم از کم ایک علامت ظاہر کی اور ہر تین میں سے ایک شخص تناؤ اور اضطراب کی کیفیت سے نبرد آزما ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نوجوان بھارتی، خاص طور پر جنریشن زیڈ یعنی نئی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کو، تناؤ، اضطراب اور دائمی بیماریوں سے متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہے۔

تناؤ کم کرنے کا مودی کا نسخہ
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس بحران سے آگاہ ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ سن 2018 سے انہوں نے اس بارے میں سالانہ تقریبات کا انعقاد کیا ہے، جس میں وہ بھارتی طلباء، والدین اور اساتذہ سے بات کرتے ہیں۔ اس دوران وہ ان کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں اور مشورہ بھی دیتے ہیں کہ کس طرح یونیورسٹی کے داخلے یا بورڈ کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء اپنی روزمرہ کی زندگی میں تناؤ کو کم کر سکتے ہیں۔

رواں برس کا ایسا پروگرام پیر کے روز ہی نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا۔ تقریب کے دوران مودی نے خبردار کیا کہ ”دباؤ اتنا زیادہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے کسی کی صلاحیت متاثر ہو” اور طلبہ کو ”انتہائی حد تک اسے بڑھنے سے روکنا بھی چاہیے۔” انہوں نے والدین، رشتہ داروں اور اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ طلباء کی کارکردگی پر ”رننگ کمنٹری” سے پرہیز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے طلبہ کا ”منفی موازنہ” ہونے لگتا ہے جو، ”طالب علم کی ذہنی صحت کے لیے کافی مضر ہوتا ہے۔”

لیکن تعلیمی دباؤ اس پریشانی کا صرف ایک پہلو ہے۔

تناؤ کی وجوہات کیا ہیں؟
نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ موہت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے بہت سے ساتھیوں کے لیے تعلیم کی دنیا سے اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں ہی منتقل ہونا ایک مشکل کا تھا۔

انہوں نے کہا، ”کالج کی میری زیادہ تر تعلیم وبائی امراض (کورونا) کے دوران ہوئی اور چیزوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد میں اچانک ہی ایک کام کرنے والا پیشہ ور بن گیا” انہوں نے مزید کہا ”میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ کام کی بہت ساری جگہوں میں زہریلا ماحول ہے اور کام اور زندگی میں توازن خراب ہے۔ میری نسل اس کو برداشت نہیں کرے گی۔”

ان جذبات کی تائید اس مطالعے سے بھی ہوتی ہے، جس میں کام کی جگہ پر، خاص طور پر خواتین اور جنرل زیڈ ورکرز کے لیے، بہبود میں کمی کی جانب نشاندہی کی ہے۔ اس حوالے سے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ وبائی بیماری نے ”بنیادی طور پر کام کی جگہوں کو تبدیل کر دیا ہے اور ملازمین بہتر ذہنی صحت کی توقع کر رہے ہیں۔”

ذہنی صحت کی ایک تنظیم ‘اماہا کی سینیئر کلینیکل سائیکالوجسٹ پرتیشٹھا ترویدی مرزا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہلچل اور ہنگامے والی ثقافت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے کچھ دباؤ بھی ہے، جس کے لیے نوجوان خود کو مسلسل آگے بڑھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ وہ کافی کام نہ کرنے یا جتنا چاہتے تھے اتنا حاصل نہ کر پانے کی وجہ سے، پریشانی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا پاتے ہیں۔”

وہ مزید کہتی ہیں، ”اس کے علاوہ، نوجوان اکثر اپنا موازنہ اپنے ساتھیوں یا اپنی پسندیدہ شخصیات، جیسے معروف لوگ، اثر و رسوخ رکھنے والے افراد، صنعت سے وابستہ لوگوں سے کرتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اپنے آپ کا منفی جائزہ لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خود کی قدر کرنے اور خود اعتمادی کے احساس میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔”

‘بچے پیدا کرنے کا کیا فائدہ؟’
اسیپیئن لیبز سینٹر فار دی ہیومن برین اینڈ مائنڈ آف کریا یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام آمدن کی سطح والے تقریباً 51 فیصد بھارتی نوجوان (جس کی عمر 18-24 سال کے طور پر ہو) جدوجہد یا پھر پریشانی کا شکار ہیں۔ رپورٹ اپریل سن 2020 اور اگست 2023 کے درمیان انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے والے جواب دہندگان کی بنیاد پر ترتیب دی گئی معلومات پر مبنی ہے۔ اس نے وبائی امراض کے بعد ذہنی صحت میں کمی کو بھی ظاہر کیا۔

بنگلورو کی ایک 22 سالہ طالبہ انیشا نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ”میری عمر میں، میرے والدین شادی کرنے اور ایک خاندان شروع کرنے کے لیے تیار تھے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں ایسے کسی بالغ رویے کے لیے تیار ہوں، آخر بچے پیدا کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟ یہ ہر جگہ کے لیے ایک بری خبر ہے اور اس بارے میں کسی بھی طرح کی توقع رکھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا، ”جب بھی میں سوشل میڈیا کھولتی ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی مجھ سے ایک بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر ہونے سے گریز بھی نہیں کر سکتے۔”

طبی ماہر نفسیات مرزا نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں سماجی تنازعات اور جنگیں بھی اسی ماحول کا حصہ ہیں۔

جنریشن زیڈ اور نئی نسل کے لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ یہ استحقاق اس وقت جرم کے طور پر بھی ظاہر ہوتا ہے جب نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ ایسے مواقع اور وسائل ہیں، جو دوسروں کے پاس نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر عالمی حالات- مختلف ممالک میں جنگیں، اور دیگر سماجی- سیاسی تنازعات اور غیر یقینی صورتحال جو یہ مسائل لاتے ہیں – نوجوان نسل میں تناؤ میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔”

بہت سے لوگ مدد حاصل کرنے کے خواہشمند
بھارتی لوگ اب ذہنی صحت اور تندرستی کی اہمیت کے بارے میں بھی تیزی سے آگاہ ہو رہے ہیں۔ لیو لاف لو فاؤنڈیشن نامی ادارہ دماغی صحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس نے سن 2021 میں ایک سروے کیا تھا، جس میں 92 فیصد جواب دہندگان اپنا یا کسی ایسے شخص کا علاج کروانے کے لیے تیار تھے جو ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔ یہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

تاہم مرزا کا کہنا ہے کہ اس بیداری نے ابھی تک نوجوان بھارتی شہریوں کے لیے ذہنی صحت میں کوئی بہتر نتائج مرتب نہیں کیے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ”گرچہ نوجوان ذہنی صحت کے خدشات کو پہچاننے اور سمجھنے کے زیادہ قابل ہو رہے ہیں، لیکن اس کے بارے میں کیا کرنا چاہیے، وہ اس سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سماجی مسائل اور خود پرستی کی وجہ سے بھی بروقت مدد حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر شخص کے لیے اس حوالے سے قابل اعتماد حد تک رسائی یا پھر وسائل کا دستیاب ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔