اردو خبر خاص

صدقہ کرنے والا خدا کے غیض وغضب اور بری موت سے محفوظ رہتا ہے!

Taasir Patna
===========
صدقہ کرنے والا خدا کے غیض وغضب اور بری موت سے محفوظ رہتا ہے!
محمد رضا نوری(ناسک سٹی)
ہو سکتا ہے کہ آج رمضان المبارک کی آخری رات ہو،اگر آج(منگل)کو چاند نظر آگیا تو انشاءاللہ کل عید کا سورج طلوع ہوگا۔انتیس روزوں کے بعد عید ہو جائے تو ہمیں افسوس نہیں بلکہ خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے بطور انعام ایک دن پہلے ہی عید عطا فرمادی،جبکہ نبی کریم علیہ السّلام کے ارشاد کے مطابق ثواب تیس ہی روزوں کا ملے گا۔
تو ہو سکتا ہے کہ یہ رمضان کی آخری رات ہو،پس اس میں رمضان ہی سے متعلق ایک عبادت کا اور ذکر کر لیا جائے جس کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔اس کا ادا کرنا نبی کریم علیہ السّلام نے ہمارے لئے لازمی قرار دیا جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”کہ حضور علیہ السلام نے صدقۂ فطر لازم کیا،روزوں کو بے ہودگی اور فحش سے پاک کرنے اور غریبوں کو کھانا دینے کے لئے۔”(مشکوٰۃ شریف)
یعنی نبی کریم علیہ السّلام نے اپنے غلاموں پر یہ صدقہ لازم قرار دیا،دو وجہ سے ایک تو یہ کہ روزے کی حالت میں اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے مثلاً ہم نے کسی کی غیبت کی جھوٹ بولا،کسی کو بری نظر سے دیکھا،کسی کے متعلق بدگمانی اور برا خیال کیا اور اسی قسم کی کوئی بھی ایسی حرکت جو روزے کے تقدس کے خلاف تھی تو اب روزہ ختم ہونے پر ہم کچھ صدقہ کر دیں کہ صدقہ برائیوں کو مٹاتا ہے۔ہمارا روزہ بھی اس سے صاف ستھرا ہو جائے گا۔دوسری وجہ یہ کہ عید کے دن ہم ہمارے اہل و عیال سب خوشیاں منائیں گے،اچھے کپڑے پہنیں گے،ایک دوسرے کو تحفے دیں گے،پس ہمیں چاہئے کہ اس موقع پر ہم اپنے خاندان محلے اور شہر کے غریبوں کا بھی خیال کر لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تو خوشیاں میں مگن ہوں اور ہمارے کسی غریب بھائی کے گھر میں کھانا تک نہ ہو۔یہ صدقہ کم از کم عید کے دن کے لئے تو غریب کی بے فکری کا ذریعہ بن سکے گا،اور وہ بھی ہماری طرح عید کی خوشی مناسکے گا۔
صدقۂ فطر کی جو مقدار احادیث میں مذکور ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کھانے پینے کا سامان یا اس کی قیمت وغیرہ اتنی دی جائے کہ کم از کم ایک غریب آدمی کے دو وقت پیٹ بھرنے کا انتظام ہو سکے۔تاہم گیہوں وغیرہ کی قیمت میں کمی زیادتی کی وجہ سے ہر سال صدقۂ فطر کی رقم میں بھی تبدیلی ہوتی ہے لہٰذا وہی مقررہ مقدار ادا کی جائے جو اس سال کے رمضان کے لئے علماء نے بتائی ہے۔
صدقۂ فطر رمضان میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے،جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت ہے۔” كانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين “کہ صحابہ کرام صدقۂ فطر عید سے ایک دو دن قبل ادا کر دیا کرتے تھے۔لیکن عید کے دن نماز عید کو جانے سے پہلے ادا کرنا بہتر ہے۔صدقۂ فطر انہی لوگوں کو دیا جا سکتا ہے جنہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
صدقۂ فطر صرف ان ہی لوگوں پر واجب نہیں جنھوں نے روزے رکھے،بلکہ جو بیماری وغیرہ یا کسی بھی سبب سے روزے نہ رکھ سکے وہ بھی صدقۂ فطر ادا کریں۔بہر حال صدقۂ فطر رمضان کی آخری عبادت ہے۔اس کو ادا کرنا نہ بھولئے،نیز کوشش کیجئے کہ خیر و عافیت سے روزے پورے ہونے اور عید کی خوشی نصیب ہونے پر اس واجب صدقہ کے علاوہ مزید جتنا صدقہ دیا جا سکے دینا چاہئے کہ یہ صدقہ دینے،خیرات کرنے،غریبوں کا بھلا کرنے کا بہترین موقع ہے اور نبی کریم علیہ السّلام کے ارشاد کے مطابق،صدقہ خدا کے غضب اور بری موت کو دور کر دیتا ہے۔
یعنی صدقہ کرنے والا خدا کے غیض وغضب سے بھی محفوظ رہتا ہے اور بری موت سے بھی۔نیز صدقہ دینے سے مال میں کمی بھی نہیں ہوتی کہ ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔”صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا اور معاف کر دینے سے اللہ عزت دیتا ہے،اور تواضع اختیار کرنے والے کو اللہ بلند کر دیتا ہے”.کتنی پیاری باتیں ہیں کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا اور جو شخص اپنے سے چھوٹے یا اپنے مسلمان بھائی کی غلطی کو معاف کر دیتا ہے اللہ اس کو عزت دیتا ہے،اور جو شخص اپنے آپ کو سب سے کمزور چھوٹا اور گناہگار جانتا ہے اللہ اس کے مرتبہ کو بلند کر دیتا ہے۔
غرضیکہ رمضان کے مقدس مہینہ کو جس نے ہمیں بہت نعمتوں سے نوازا،رخصت کیجئے صدقہ وخیرات کے ساتھ،غریبوں پر شفقت اور ان کی امداد کے ساتھ۔اللہ ہمارے صدقۂ فطر کو ہمارے روزوں کی پاکیزگی کا ذریعہ بنائے اور اس کی برکتیں ہمیں عطا فرمائے۔آمین