اردو خبر دنیا

غزہ کے فلسطینیوں کی صورت حال : امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، ”غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور فلسطینی سرزمین ہی رہے گی

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر نے غزہ کے باشندوں کی فلسطینی سرزمین سے منتقلی کے بارے میں دو اسرائیلی وزراء کے بیانات پر امریکہ کی کڑی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہی کریں گے، جو اسرائیل کی بہتری میں ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اور انتہائی دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے سیاست دان کا امریکہ کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے یہ بیان منگل دیر گئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیا گیا۔ ان کا یہ پیغام دراصل اس وقت سامنے آیا، جب امریکی محکمہ خارجہ نے ان کے مطالبے پر یہ کہہ کر کڑی تنقید کی تھی کہ ”فلسطینی آبادی کی منتقلی اشتعال انگیزی اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔‘‘

 

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، ”غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور فلسطینی سرزمین ہی رہے گی۔ تصادم کے دوران شہریوں کو بے دخل کرنا یا ناقابل رہائش حالات پیدا کرنا، جو انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیں، جنگی جرم ہے۔‘‘

 

 

ایکس پر پوسٹ کیے گئے اس پیغام میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گوئیر نے منگل کو رات گئے مزید لکھا، ”امریکہ ہمارا سب سے اچھا دوست ہے لیکن سب سے پہلے ہم وہی کریں گے، جو اسرائیل کی ریاست کے لیے بہتر ہے۔ غزہ سے لاکھوں فلسطینیوں کی نقل مکانی سے اسرائیلی رہائشیوں کو گھر واپس آنے اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو تحفظ فراہم ہو گا۔‘‘

یہ موضوع اتنا اہم کیوں؟
واشنگٹن نے بین گوئیر اور اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ دونوں کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان دونوں نے اسرائیلی آباد کاروں کو غزہ واپس جانے اور علاقے کے فلسطینی باشندوں کو اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔ اسرائیلی وزراء کے تبصرے اس خوف کی نشاندہی کرتے نظر آرہے ہیں، جن کا شکار عرب دنیا کے زیادہ تر باشندے ہیں۔ اسرائیلی وزراء کے ایسے بیانات ان خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ اسرائیل 1948 ء میں اپنے ریاستی قیام کے وقت کی طرح ایک بار پھر فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل کرنا چاہتا ہے۔


واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد نے غزہ کے فلسطینی باشندوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس محصور علاقے کو چھوڑ دیں۔ قومی سلامتی کے وزیر بین گوئیر نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ غزہ میں جنگ نے ”اس علاقے کے رہائشیوں کی نقل مکانی کی حوصلہ افزائی پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔‘‘

اسرائیلی وزیر کے بیانات کا سیاق وسباق
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی سخت گیر موقف والی دائیں بازو کی مذہبی پارٹی کو اسرائیل کی آبادکار برادری کی حمایت حاصل ہے۔ اسی برادری نے گزشتہ برس نیتن یاہو کو چھٹی بار وزیر اعظم بننے کے لیے درکار اکثریتی ووٹ دلوائے تھے۔ قبل ازیں بین گوئیر کی طرف سے دیے گئے ریمارکس بھی امریکی صدر جوبائیڈن کی ناراضی کا سبب بن چکے ہیں۔ اس کے سبب جو بائیڈن نے دسمبر میں ایک بیان میں کہا تھا، ”اسرائیلی وزیر اور ان کے اتحادی تمام فلسطینیوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔‘‘

غزہ کے فلسطینیوں کی صورت حال
حماس کے عسکریت پسندوں اور اسرائیل کے درمیان تقریباً تین ماہ کی لڑائی کے باعث غزہ کے 2.4 ملین باشندوں کی اکثریت اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکی ہے۔ حماس کے زیر انتظام غزہ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں اب تک کم از کم 22,185 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے، جب کہ مسلسل حملوں نے غزہ پٹی کے زیادہ تر علاقوں کو ملبے اور کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی یہ لڑائی گزشتہ برس سات اکتوبر کو اس وقت شروع ہوئی تھی، جب حماس نے اسرائیل پر دہشت گردانہ حملہ کرتے ہوئے تقریبا 1140 اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ حماس کے جنگجو اسرائیل سے واپس جاتے ہوئے 240 کے قریب افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ بھی لے گئے تھے۔ ان یرغمالیوں کی اکثریت ابھی تک حماس کے قبضے میں ہے۔