اردو خبر خاص

قرآن ھماری روح کی آواز یہ ہماری ہر بیماری کا علاج…By-فاروق رشید فاروقی

Farooque Rasheed Farooquee
===============
·
. قرآن ھماری روح کی آواز یہ ہماری ہر بیماری کا علاج
تجھ سے لفظوں کا نہیں روح کا رشتہ ھے مرا
تو ہی پھیلا ہے مری روح میں خوشبو کی طرح
قرآن دنیا کے انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا پیغام ھے۔ قرآن اللہ نے ہمارے سامنے کلام یا بیان کی شکل میں پیش کیا۔ یہ مقدس کتاب کسی خاص دور، کسی خاص علاقے یا کسی یا کسی خاص زبان کے بولنے والوں کے لئے ہی نہیں بھیجی گئی تھی۔ یہ تمام انسانوں کے لئے ہدایت کا آخری پیغام ھے۔ یہ پیغام ہر زمانے کے لئے ھے۔ قرآن میں کل 6236 آیتیں ہیں( اگر آپ چاہیں تو قرآن کی آیتیں گن کر دیکھ لیجئے۔) 558 رکوع ہیں، 114 سورتیں ہیں اور تیس پارے ہیں۔ قرآن کی پہلی سورت سورہء فاتحہ ھے۔ یہ سورت قرآن کا روشن دروازہ ھے اور بہت اہمیت رکھتی ھے۔ سورہء فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ یہ پہلی سورت قرآن کے کسی پارے کا حصہ نہیں ھے۔
قرآن ہمیں ایک مثالی ضابطۂ اخلاق دیتا ھے۔ یہ ہمیں ذندگی کی کامیاب اور روشن راہ دکھاتا ھے۔ یہ ہمیں بتاتا ھے کہ زندگی میں ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔
جو قرآن کا پیغام مانتے ہیں اور اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں ‘مسلمان’ کہلاتے ہیں۔ ‘مسلمان’ لفظ کا مطلب ھے– ایک ایسا انسان جس نے اپنی مرضی سے اپنی ذات کو اللہ کے حوالے کر دیا ہو۔ مسلم لفظ کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ھے۔– کہ ایک ایسا انسان جس نے قرآن کا پیغام مان لیا ہو اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مثالی کردار مان لیا ہو، نمونہ مان لیا ہو اور ان کے احکام پر عمل کرتا ہو۔ قرآن اللہ پاک نے ایک فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا۔ قرآن ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے چھوٹے حصوں میں ضرورت کے تحت، حالات کے مطابق، مختلف علاقوں میں اور مختلف مقامات پر اتارا گیا۔ قرآن کی سبھی آیتیں ہمارے پیغمبر کے پاس 23 برس کے عرصے میں پہنچیں۔
قرآن ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر رمضان کے مہینے میں اترنا شروع ہوا۔ رمضان کے پاک مہینے کی اہمیت اس لئے ھے کہ اس مہینے میں قرآن اترنا شروع ہوا۔ قرآن ضرورت کے مطابق دوسرے مہینوں میں بھی اترا۔ قرآن ایک بیان کی شکل میں اور نثر کی شکل میں ھے لیکن قرآن کی زبان میں ایک نظم کا بہاؤ ھے۔ یہ شاعری نہیں ھے۔ ہاں اس میں نظم کے تسلسل کی لہریں اٹھتی ہیں۔
زندگی کے ہر میدان میں ہدایت اور احکام حاصل کرنے کے لئے ایک مکمل کتاب ھے۔ قرآن کا موجودہ زمانے سے، گزرے ہوئے زمانے سے یا آنے والے زمانے سے کوئی ایسا تعلق نہیں ھے کہ اسے اسی دور کے لئے مخصوص مان لیا جائے۔ یہ اپنے سیاق و سباق میں پوری دنیا کے لئے اور ہر سماج کے لئے ایک جیسی اہمیت رکھتا ھے۔ قرآن ہر دور کے لئے ھے، ہر ماحول کے لئے ھے، دنیا کے ہر گوشے کے لئے ھے اور ہر قسم کی تہذیب کے لئے ھے۔ وہ اللہ جو اس کائنات کا بنانے والا ھے، ہم سب کا پالنے والا ھے وہی انسان کی فطرت کا بنانے والا ھے۔ اسی لیے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اللہ کا پیغام اور اس کے احکام بدلے نہیں جا سکتے۔ انسان زندگی کے الگ الگ میدانوں میں بہت سے بدلاؤ سے گزرتا ھے۔ انسان آج ایک بات کی حمایت کرتا ھے اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ اسی بات کی مخالفت کرتا ھے۔ انسان یہ مانتا ھے کہ وہ کل غلط تھا اور آج صحیح ھے۔ انسان بدلتا رہتا ھے۔ انسان کو کبھی مکمل اور مثالی نہیں کہا گیا۔ اسی لئے انسان جو قانون بناتا ھے اسے بدلنے کی ضرورت ہوتی ھے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا نہیں ھے۔ اللہ پاک کو طرح طرح کے انسانوں، ان کی فطرتوں اور انسان کی سبھی ضرورتوں کا علم ھے۔ اللہ نے انسان کو بنایا، دنیا بنائی اور دنیا کی ساری ضرورتیں بنائیں۔ اللہ کے قانون کا مقابلہ انسان کے بنائے ہوئے قانون سے نہیں کیا جا سکتا۔
جب قرآن اتر چکا تھا اور ایک آیت کا ایک حصہ قرآن کو ایک آخری سند دینے کے لئے اترنا تھا، ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے آخری دور میں تھے، تبھی 9 ذی الحجہ کو عرفہ کے دن اللہ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ پیغام بھیجا– “آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اللہ تم سے اس دین کے ساتھ راضی ہوا۔”
قرآن کی پہلی سورت الفاتحہ ھے۔ یہ بہت پیاری دعا ھے۔ اس سورت کے ایک حصے میں اللہ کی تعریف ھے اور دوسرے حصے میں اللہ سے دعا ھے۔ اس سورت کو اللہ نے اپنے اور اپنے بندوں کے بیچ بانٹ دیا ھے۔ اس سورت کی ایک آیت ھے “اھدنا الصراط المستقیم۔” یعنی “ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔” زندگی کا وہ سیدھا راستہ کیسا ھے جس پر چل کر زندگی اور زندگی کے بعد آخرت میں کامیابی ملے؟ زندگی کے اسی راستے کو سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دوسری سورت سے 114 ویں سورت تک سیدھا راستہ سمجھایا ھے۔ یہ بتایا ھے کہ کس طرح کے اعمال کرکے سیدھی راہ پر چلا جا سکتا ھے۔
قرآن عربی زبان کا شاہکار ھے۔ اس کتاب میں عربی اپنی بہترین صورت میں ھے۔ قرآن زندگی کے ہر میدان میں اور ہر طرح کے حالات کو سمجھتے ہوئے دنیا کے تمام انسانوں کو ہر معاملے میں ہدایت دیتا ھے۔ ایک سچے مسلمان کو قرآن سمجھنا چاہئے اور اس پر مکمل عمل کرنا چاہیے۔ ہم سبھی مسلمانوں کو قرآن کے پیغام، اس کے احکام اور اس کے تمام فیصلوں پر پورا یقین ہونا چاہیے۔ ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن کو اچھی طرح سمجھے اور دوسروں کو اسے سمجھائے، اس کے احکام کی وضاحت کرے۔ ہمارا یہ فرض بھی ھے کہ ہم یہ واضح کریں کہ قرآن صرف مسلمانوں کی مذہبی کتاب نہیں ھے۔ یہ پیغام ساری دنیا کے لئے ھے۔ یہ امن انسانیت اور ترقی کا پیغام ھے۔ یہ پیغام پوری دنیا کے لئے اور ہر زمانے کے لئے ھے۔ یہ اللہ کا آخری پیغام ھے۔ ہر انسان کو یہ پیغام پڑھنا چاہیے۔ اللہ کے سامنے ہر انسان قرآن کے مطابق عمل کرنے یا نہ کرنے کے لئے ذمہ دار ہوگا۔
قرآن کے خاص نکات مندرجہ ذیل ہیں–
*‌ یہ اللہ کا کلام یعنی کتاب ھے۔ ایک ایسی کتاب جو بیان کی شکل میں ھے۔
* یہ ہمیں زندگی کی راہ دکھاتی ھے۔
* یہ مساوات اور انصاف کی بنیاد پر ایک مکمل اور مثالی نظام رکھتی ھے۔
* یہ سادہ زندگی اور بلند خیالات کی بنیاد ھے۔
* یہ ایک ایسا مثالی ضابطۂ اخلاق ھے جو ہر قوم، ہر مقام اور ہر علاقے کے لئے ایک بہترین مثال ھے۔
* یہ گھنگھور اندھیروں میں روشنی کا چراغ ھے۔
* یہ دل اور دماغ کے لئے سکون اور روشنی ھے۔
* یہ زندگی کی ساری اخلاقیات اور اقدار کو ایک مضبوط بنیاد دیتا ہے۔
قرآن کی بنیادی تعلیم اس طرح ھے–
* اللہ کی وحدانیت میں یقین رکھنا۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننا۔
اس بات پر یقین ہونا کہ ہم اپنے اچھے اور برے اعمال کے لئے ذمہ دار ہوں گے اور آخرت کے دن اپنے تمام اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ انھیں اعمال کے مطابق ہمیں جزا یا سزا ملے گی اور ہمارے لئے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔
ہمیں کھلے ہوئے دماغ سے بغیر کسی تعصب یا مخصوص طرز فکر رکھتے ہوئے قرآن سمجھنا چاہیے اور بہت سنجیدگی کے ساتھ اس زندگی پرغور کرنا چاہیے جو موت کے بعد ملے گی اور کبھی ختم نہ ہوگی۔ وہی اصل زندگی ھے۔ انسان کی روح اللہ نے بنائی ھے۔ روح ایک توانائی ھے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ سائنس کے علم کے مطابق توانائی ایک روپ سے دوسرے روپ میں تبدیل ہوتی ھے۔ یہ بات واضح ھے کہ ہمارا جسم ختم ہونے کے بعد بھی روح کا وجود رھے گا۔ جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا اس کے سامنے ہمیں اپنے اعمال کے ساتھ جانا ہی ہوگا۔ وہاں ہمارے اعمال کے علاوہ کوئی ہمارا سہارا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہم سب بے بس ہوں گے۔ ہمارے فیصلے کی بنیاد ہمارے اعمال، اللہ پر ہمارا ایمان اور اللہ سے ہمارے تعلق کی مضبوطی ہوگی۔ کاش! ہم سبھی ایسے اعمال کریں کہ وہ ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی جنت میں گزاریں۔ آمین! جنت کی راہ کی تلاش کے لئے آپ ایک بار قرآن سمجھ کر ضرور پڑھیں۔ قرآن اس کائنات کا سب سے بڑا معجزہ ھے اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ھے جو ہر انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیاب بنا سکتا ھے۔
بیخبر تو جوہر آئینئہ ایام ھے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ھے
(فاروق رشید فاروقی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *