اردو خبر خاص

چرچ، ریاست اور سوسائٹی

چرچ، ریاست اور سوسائٹی

عہد وسطیٰ میں یورپ کا معاشرہ تین طبقوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ پہلا چرچ کے عہدیدار (Clergy)، دوسرا اُمراء، تیسرے میں بقایا عوام۔ ان تینوں میں چرچ یا عہدیدار سب سے زیادہ طاقتور تھے۔

عہد وسطیٰ میں چرچ سب سے زیادہ زرعی زمین کا مالک تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بہت سے اُمراء ثواب کی خاطر، چرچ کو بطورعطیہ اپنی زمینیں دے دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے چرچ کے پاس آمدنی کے ذرائع ہو گئے تھے۔ اپنی آمدنی کی بنیاد پر چرچ نے تعلیمی ادارے کھولے، بیماروں کی دیکھ بھال کے لیے ہسپتال قائم کیے، غریبوں کی مدد کے لیے خیرات کا سلسلہ شروع کیا۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے چرچ کا عوام سے گہرا رابط تھا۔ اس کے علاوہ چرچ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے قصبوں میں موجود تھے، جہاں لوگ عبادت کی غرض سے جمع ہوتے تھے۔

چرچ کے بڑے عہدیداروں میں اُمراء کے لڑکے بھی آجاتے تھے۔ کیونکہ جائیداد کا وارث بڑا لڑکا ہوتا تھا، اس لیے دوسرے لڑکے یا تو چرچ کے عہدیدار ہو جاتے تھے یا فوج میں چلے جاتے تھے۔ کیونکہ چرچ کی وفاداری پوپ سے ہوتی تھی۔ اس لیے مقامی حکمرانوں کی وہ تابعداری نہیں کرتے تھے اور اپنی جگہ آزاد تھے۔

خاص طور سے چرچ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ مذہبی تعلیمات اور عقیدے کا تحفظ کرے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دے۔ انکلوزیشن کا محکمہ منحرفین کو زندہ جلانے کی سزا دیتا تھا۔ سزا کو نافذ کرنا اور زندہ جلانے کا کام سیکولر اتھارٹی کو دے دیا جاتا تھا۔

ہم یہاں خاص طور سے انقلاب سے پہلے فرانس میں چرچ کے کردار پر بحث کریں گے۔ فرانس میں کنگ ہنری IV نے 1598ء میں Edict of Nantes کا نفاذ کیا، جس میں پروٹسٹنٹ کو حقوق دیے گئے تھے۔لیکن لوئی (XIV) نے اس کا خاتمہ کر کے پروٹسٹنٹ فرقے کے تحفظ کو ختم کر دیا، جس کی وجہ سے سخت فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور پروٹسٹنٹ فرقے کی اکثریت نے فرانس چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لی۔

کیونکہ چرچ کا اثرورسوخ بہت زیادہ تھا۔ اس لیے ریاست بھی اس کے سامنے بے بس تھی۔ خاص طور سے یہ دانشوروں کی تحریروں پر سخت پابندی لگاتے تھے۔ سینسرشپ کے قانون کی وجہ سے وہ اپنی کتابیں اس وقت تک شائع نہیں کر وا سکتے تھے جب تک کہ چرچ اس کی اجازت نہ دے۔ لوگوں کی روز مرہ کی زندگی میں بھی چرچ کا عمل دخل تھا۔

کسی شخص کے مرنے سے پہلے اس سے اعتراف کرایا جاتا تھا کہ وہ مسیحیت پر ایمان رکھتا ہے کہ نہیں۔ اعتراف کرنے والوں کو چرچ کے قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت تھی ورنہ ان کی لاشوں کو ایک اجتماعی قبر میں پھینک دیا جاتا تھا۔

1778ء میں جب فرانسیسی فلسفی والٹیئر کی وفات ہوئی تو اس کے اعترافات سے چرچ کے عہدیدار مطمئن نہیں تھے۔ اس لیے اسے چرچ کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ تھی، لہٰذا اس کے مداحوں نے رات کی خاموشی میں اس کی لاش کو ایک دور دراز کے قصبے کے قبرستان میں دفن کیا۔ فرانسیسی انقلاب کے دوران اس کے تابوت کو وہاں سے لا کر Pantheon میں دفن کیا گیا، جو فرانسیسی ہیروز کی یادگار ہے۔

روشن خیالی کے مفکرین اور دانشوروں نے چرچ کی مخالفت میں آواز اُٹھائی کیونکہ اس کے تسلط کی وجہ سے نہ تو مذہبی اقلیتیں محفوظ تھیں اور نہ تحریر و تقریر کی آزادی۔ دانشوروں کی اس مہم میں ریاست کے عہدیدار اور اُمراء بھی ان کے ساتھ تھے، کیونکہ چرچ نے ریاست کو بھی بے بس کر دیا تھا اور اصل اقتدار چرچ کے پاس تھا، جو جبر کے ساتھ مذہبی تعلیمات کا نفاذ کر کے سوسائٹی کی اصلاح کرنا چاہتا تھا۔

انہیں وجوہات کی بنا پر جب 1789ء کا فرانسیسی انقلاب آیا تو اس نے اصلاحات کے ذریعے سب سے پہلے چرچ کے تسلط کو توڑا۔ ان سے تعلیم کی ذمہ داری لے کر ریاست کو دی۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں نیلام کر دیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاست کو سیکولر بنیادوں پر قائم کر کے اسے قومی ریاست بنایا۔

روز مرہ کی زندگی نے چرچ کی جو ذمہ داری تھی وہ ختم ہوئی جب ان کی مالی امداد بند ہوئی تو وہ اس قابل نہیں رہا کہ اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھ سکے۔ جب مذہب ریاست سے جدا ہوا تو سینسر شپ کی سختیاں بھی ختم ہوئی۔ دانشوروں کو آزادی ملی کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ اس میں مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دیا گیا اور انہیں قوم کا حصہ بنا دیا گیا۔

فرانس کا یہ ماڈل دوسرے یورپی ملکوں نے بھی اختیار کیا اور قومی ریاست کے ادارے نے سوسائٹی کے ذہن کو سیکولر بنایا، جب ذہن مذہب کی گرفت سے آزاد ہوا تو سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم میں نئے خیالات و افکار پیدا ہونا شروع ہوئے، جنہوں نے یورپی تہذیب کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا۔

اس پس منظر میں جب ہم پاکستان کی سوسائٹی کا مطالعہ کرتے ہیں تو مذہبی طبقے کی پابندیوں کی وجہ سے نئی فکر پیدا نہیں ہو پاتی کیونکہ جب اس کے خلاف یہ فتویٰ آجائے کہ یہ مذہب کی تعلیمات کے خلاف ہے تو فکر کی راہیں بند ہو جاتی ہیں اور جب پورا معاشرہ مذہب کے تسلط میں رہے تو اس میں نئی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے۔

موجودہ دور میں علم و آگاہی کا زبردست پھیلاؤ ہے، اگر کوئی قوم اس دھارے میں شامل نہیں ہوتی ہے تو علیحدگی اور تنہائی کی صورت میں وہ گمنامی کا شکار ہو کر خود کو اندھیروں سے ڈھانپ لیتی ہے۔

قومیں تاریخ سے سیکھتی ہیں۔ امریکہ جب برطانیہ سے آزاد ہوا تو اس کا دستور بنانے والوں نے خاص طور سے تاریخ کا مطالعہ کیا۔ وہ رومی سلطنت کے قوانین اور سیاسی اداروں سے بے انتہا متاثر ہوئے خاص طور سے انہوں نے دستور میں ریاست اور چرچ کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ چرچ کے اثرورسوخ سے آزاد ہو کر ریاست اس پوزیشن میں تھی کہ وہ سیاسی مفادات کی روشنی میں قوانین بنائے۔

امریکی ریاست نے چرچ کو سیاسی امور میں دخل اندازی کا موقع نہیں دیا۔ یہی وہ پالیسی تھی کہ جسے یورپی ملکوں نے اختیار کیا۔ ایشیا اور افریقہ کے آزاد ہونے والے ملکوں نے اپنی قوموں کو تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے ان کے مذہبی تعصبات سے فائدہ اُٹھایا اور مذہب کو سیاست کا حصہ بنا کر اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ اس ملاپ نے قوموں کی ذہنی ترقی کو روک دیا اور معاشرے پسماندہ ہوتے چلے گئے۔

نوٹ: تیسری جنگ اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

=============

ڈاکٹر مبارک علی
کالم