اردو خبر خاص

تاریخی شہر حیدرآباد کا ایک یادگار سفر (سفر نامہ) – عزیر حمزہ پوری، رانچی

Taasir Patna
==========
تاریخی شہر حیدرآباد کا ایک یادگار سفر (سفر نامہ)
________________________________________
عزیر حمزہ پوری، رانچی

یوں تو حیدرآباد کئی بار جانا ہوا ہے۔ پہلی بار 2003 میں شعبہء دیہی ترقیات، جھارکھنڈ سرکار کی ایماء پر ورلڈ بینک کے زریعے منعقدہ Acquisition of World Bank Projects موضوع پر سمینار اور ٹریننگ پروگرام میں حصہ لینے کی غرض سے حیدرآباد جانے کا اتفاق ہوا حیدرآباد کے اڈمنسٹرٹیو کالج ASCI میں قیام وطعام کے ساتھ وہیں ٹریننگ کلاسیز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پنج روزہ اس ٹریننگ کے خاتمے پر انتظامیہ کی طرف سے راموجی فلم سٹی کی سیر کرائی گئی۔ یہ ایک الگ ہی دنیا ہے جو شہر سے تقریباً 28 کیلومیٹر دور بہت بڑے پہاڑی اور جنگلات سے گھرے علاقہ میں آباد ہے جسے دیکھنے کے لئے ایک دن ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ گولکنڈہ قلعہ، چار مینار، سالار جنگ میوزیم اور حسین ساگر جو کالج سے قریب ہی واقع تھا، دیکھنے، گھومنے اور تفریح کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ حیدرآباد کے پرل (موتی) کے زیورات دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ واپسی کے ایک دن قبل منگت رائے کی مشہور دکان سے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ موتی یعنی پرل کے ہار کی خریداری کی گئی۔ آخری شب انتظامیہ کی طرف سےحیدرآباد کی لذیذ بریانی کی پرتکلف دعوت بھلائے نہیں بھولتی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ویسی بریانی پھر کہیں نہیں یہاں تک کہ حیدرآباد میں بھی نصیب نہیں ہوسکی۔ اس دورے نے حیدرآباد کے لئے ایک عجیب سی کشش اور دل میں محبت پیدا کر دی۔ اور پھر یوں ہوا کہ اس شہر کی دوبارہ زیارت کی تمنا نے انگڑائی لی۔ دوبارہ اس شہر حیدرآباد جانے کا موقع 2015 میں ملا جب بڑے بیٹے محمد ناشط عزیر کے انجنیئرنگ میں داخلہ کے لئے جانا ہوا۔ اس دوران وہاں پہلے سے رہ رہےمیرے برادر نسبتی فیصل کریم جو مہدی پٹنم علاقے میں مقیم ہیں، کے یہاں ٹہھرنا ہوا۔ ان کے ساتھ بھی مقامی تاریخی مقامات جانے کا موقع ملا۔ اس بار پرانے دیکھے ہوئے مقامات کے علاوہ پنج محلہ، قطب شاہی گنبدوں کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

لیکن گزشتہ اگست- ستمبر 2023 میں حیدرآباد کا کیا گیا سفر کئی معنوں میں خاص اور یادگار رہا جسے قارئین کی دلچسپی اور ذوق کی خاطر قلم بند کرنا چاہوں گا۔
سلاطین، نوابین، ادباء و شعرائے کرام کا شہر حیدرآباد اپنی ثقافت، مصوری، ادب، زیورات اور ملبوسات میں ہندوستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ اس کا دکنی لہجہ پر کشش اور جاذب سماعت ہے۔ اس کے علاوہ یہ شہر پہاڑوں، تالابوں سے بھر پور ہے۔ یہاں کے دو مشہور مصنوعی تالاب حسین ساگر اور عثمان ساگر سیاحوں کی ہردلعزیز جگہوں میں ایک ہیں۔ حسین ساگر میں بنا بدھا کا مجسمہ، مکہ مسجد، چار مینار، گولکنڈہ قلعہ، قطب شاہی باغ کے علاوہ گچی باولی، پنج محلہ اور ہائی ٹیک سٹی دیکھنے اور گھومنے کے لائق مقامات ہیں۔ حیدرآباد سمندر کی سطح سے 542 میٹر کی اونچائی پر واقع ہے (رانچی 610میٹر پر ہے)۔ سلاطین قطب شاہی دور کے پانچویں قطب شاہی سلطان محمد قلی قطب شاہ نے 1591 میں ایک نئے شہر حیدرآباد کی بنیاد رکھی تھی جس میں مشہور تاریخی عمارت چار مینار کو مرکزیت حاصل تھی۔ چار مینار کے اطراف دریا موسی کے کنارے اسے بسایا تھا۔ اس شہر کا رقبہ 650 مربع کیلومیٹر ہے۔
یہاں اردو ادب کے سرمائے میں کافی اضافہ ہوا۔ محمد قلی قطب شاہ (1612-1525) اپنے عہد کا بڑا شاعر گزرا ہے جس نے اردو کا ایک ضخیم کلیات چھوڑا ہے۔ ملا اسد اللہ وجہی بھی اسی دور کے ایک بڑے شاعر و نثر نگار گزرے ہیں۔ ولی دکنی (1725-1650) کو اردو شاعری میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ ” 1687 میں مغلیہ سلطنت نے حملہ کر اسے مغلیہ حکومت کا حصہ بنایا لیکن پھر 1724 میں آصف جاہ اول نے مغل سلطنت سے بغاوت کی اور خودمختاری کا اعلان کیا۔ 1769 سے 1948 تک حیدرآباد آصفیہ مملکت کا پایہ تخت رہا۔ 1947 میں یہ نوابی سلطنت برطانوی ریزیڈنسی حیدرآباد کہلایا اور 1948 میں بھارت ڈومینس نے حیدرآباد کو بھارت میں شامل کر لیا اور حیدرآباد پایہ تخت بنا رہا “. 1956 میں صوبہ نو تشکیل ایکٹ کے تحت نئی ریاست آندھرا پردیش وجود میں آئی اور حیدرآباد ہی اس ریاست کا دارالحکومت بنا۔ 2014 میں آندھرا پردیش کے بھی دو حصے ہوئے اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا عمل وجود میں آیا اور اس نئی ریاست کا دارالحکومت بھی حیدرآباد کو بنایا گیا۔

اس شہر میں قطب شاہی اور نظام شاہی کے باقیات ابھی بھی جابجا ملتے ہیں۔ یہ شہر ہیروں کےشہر سے بھی موسوم ہے۔ ترقی کی منزلیں طے کرتے اس شہر کا ایک حصہ ہائی ٹیک سٹی میں تبدیل ہوگیا۔ اس ترقی پذیر سٹی میں کئی بین الاقوامی کمپنیاں اور صنعتیں ہیں جہاں ملک کے مختلف گوشے سے لوگ آکر ترقی میں اپنا تعاون دے رہے ہیں اور خود بھی خودکفیل ہو رہے ہیں۔
سفر کے ضمن میں حیدرآباد کے بارے اس تعارفی کلمات کے بعد روداد سفر کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کروں کہ 26 اگست 23 کو ہمراہ اہلیہ رضیہ اور بڑے بیٹے محمد ناشط عزیر رانچی رہائش گاہ سے صبح 7 بجے برسا منڈا ہوائی اڈا کے لئے روانہ ہوا۔ گو ایرویز کی پرواز 9 بجے تھی۔ سیکورٹی کارروائی وغیرہ سے گزر جانے کے بعد طیارے میں سوار ہونے سے قبل لانج میں ہم لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی دوران میری نظر ڈاکٹر عبدالودود صاحب، برسا ایگریکلچر یونیورسٹی رانچی پر پڑی۔ تپاک سے ہم دونوں ملے۔ معلوم ہوا کہ وہ اپنے بیٹے سے ملنے بنگلورو جارہے ہیں۔ بہرحال وقت مقررہ پر ہم لوگ اپنے طیارے میں سوار ہوئے۔ اور30 :11 بجے دن راجیو گاندھی انٹر نیشنل ایرپورٹ حیدرآباد پر لینڈ کیا۔ یہ ایرپورٹ کافی بڑا اور خوبصورت بھی ہے۔ جابجا اردو میں لکھی تختی دیکھکر دلی مسرت ہوئی۔ جب اپنے سامان وصول کر ہم لوگ باہر نکلے تو سامنے ہی اپنے داماد معراج نواز، بیٹی الطف اور اپنے تین سالہ نواسہ حماد کو موجود پایا۔ ان لوگوں سے ملکر بے حد خوشی ہوئی۔ ان کی گاڑی پر سوار ہوکر ہم لوگ رہائش گاہ خواجہ ریزیڈنسی، نزد مسجد گنبد، مہدی پٹنم پہنچ گئے جہاں فریش ہونے کے بعد آرام کیا۔
اس بار حیدرآباد جانے کی غایت اور وجہ کئی تھیں۔ حماد کی رسم سنت(ختنہ), اہلیہ کی آنکھوں کی جانچ اور خود میرے ہارٹ کی جانچ (انجو گرافی). ظاہر ہے اس درمیان گھومنا پھرنا قدرتی طور پر پروگرام میں شامل تھا۔ حیدرآباد میں مشہور آنکھوں کا اسپتال ایل وی پرشاد اسپتال میں ڈاکٹر سے پہلے ہی اپوانٹمنٹ لے لی گئی تھی۔ سب سے پہلے دوسرے ہی دن 27 اگست کو ایل وی آئی اسپتال جو شہر کے قسمت پور میں واقع ہے، اہلیہ کے ہمراہ جانا ہوا۔ اسپتال صاف ستھرا، ہریالی اور پھولوں سے بھر پور قابل علاج ہی نہیں قابل دید جگہ بھی ہے۔ جانچ کے بعد ڈاکٹر نے حسب توقعات پاور میں کچھ تبدیلی کے ساتھ آنکھوں میں ڈالنے کی دوا تجویز کی۔

جوبلی ہل واقع اپولو اسپتال میں ہارٹ سرجن ڈاکٹر وجے دکشت سے 2 ستمبر کو ملنے کی تاریخ طے تھی۔ حیدرآباد اپولو ہسپتال بھی کافی بڑا اور اچھا ہےاس لیےکُچھ بھیڑ بھاڑ بھی قدرتی طور پر زیادہ تھی۔ سب کام سلیقے اور سسٹم سے ہوتا ہوا پایا۔ میں وقت مقررہ پر ڈاکٹر دکشت سے ملا۔ پرانے ٹسٹ کی جانچ و نسخہ دیکھکر انھوں نے بتایا کہ دراصل ان کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ بہتر ہے کسی کارڈیولوجسٹ کو دیکھا لیں۔ اگر وہ ضرورت سمجھیں گے تو میری ضرورت ہوگی ورنہ نہیں۔ اس کے لئے انہوں نے ڈاکٹر منوج اگروال، کارڈیولوجسٹ کا نام سجھایا۔ اتفاق کی بات وہ نہیں تھے۔ مجبوراً ایک دوسرے ڈاکٹر سے ملنا پڑا جو قدرے ینگ اور جونیئر تھے۔ خیر مشورہ کے مطابق انہیں دکھایا گیا۔ ڈاکٹر نے کچھ ضروری جانچ کا مشورہ دیا جسے میں نے کرالیا مگر دل کو تسلی اور تشفی نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے رانچی سے حیدرآباد اچھے ڈاکٹر اور اسپتال کے مدنظر ہی جانا ہوا تھا تو بہتر بھی یہی تھا کہ کسی سنیرء ڈاکٹر سے انجو گرافی کرائی جائے۔ لہذا، گچی باولی میں واقع اے آئی جی اسپتال کے مشہور کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر انوج کپاڈیا سے اپوانٹمنٹ لے لی گئی جنھوں نے دیکھنے کی 12 ستمبر کی تاریخ طے کی۔ چونکہ اس میں ابھی دیر تھی اس لئے حماد (نواسے) کی رسم سنت(ختنہ) اس درمیان کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس طرح ڈاکٹر امتیاز احمد، مشہور سرجن سے ختنہ کرانے کی تاریخ طے پائی اور 6 ستمبر کو ان کے کلنک کریسنٹ میں الحمدللہ یہ کام بخیر خوبی انجام پایا۔

12 ستمبر سے قبل ایک دن خوبصورت تاریخی قطب شاہی باغ گھومنا ہوا۔ 106 ایکڑز زمین میں پھیلے اس ہیریٹیج باغ میں اس دور کے مختلف سلاطین کے سات بڑے مقبرے مع گنبد ہیں۔ اس کے علاوہ 40 چھوٹے گنبد بھی ہیں اور کل 133 قبریں بھی ہیں۔ قطب شاہی ہیریٹیج پارک سنگ سیاہ (بلیک بسالٹ) اور مقامی پتھروں کے امتزاج سے کی گئی عمدہ کاریگری و نقش نگاری کا ذخیرہ ہے۔ مقبرے کے اطراف کی قبریں ہند-ایرانی کاریگری کی شاندار مثالیں پیش کرتی ہیں اور یہاں نشان زدہ قبروں پر نقش، ثلث، نستعلیق اور کوفی رسم الخط میں کندہ تحریری دیکھی جا سکتی ہیں۔ بڑے گنبد سے متصل مسجدیں بھی ہیں جو متعلق سلاطین کی نماز جنازہ ادا کرنےکی غرض سے تعمیر کی گئیں تھیں اور پنج وقتہ نمازوں کے لئے نہیں ہیں، اب کچھ مسجد میں نماز ادا بھی ہونے لگی ہے۔ ایسی ہی ایک مسجد میں نماز عصر باجماعت ادا کرنے کا موقع ملا۔ اس سے متصل ہی ایک میوزیم ہے جس میں سلطنت قطب شاہی اور اس دور کی مشہور تعمیرات کی تصویریں شیشہ کے فریم میں آویزاں ہیں۔ اس کے علاوہ پورے کیمپس کا پلان (نقشہ) بھی موجود ہے۔ اس میں باولی، حمام، ڈرینیج سسٹم کا بہترین انتظام اس زمانے کی انجنیئرینگ صلاحیت کا بہترین نمونہ ہیں۔ محمد قلی قطب شاہ جس کا دور حکومت 1611-1581 ہے, کے گنبد کی اونچائی 60 میٹر ہے۔ قلی قطب شاہ اپنے دور کے ایک بڑے صاحب دیوان شاعر گزرے ہیں۔ اس مقبرے کے پاس میں نے یادگار کے طور پر ایک تصویر بھی اتاری۔ اس مقبرے کے سامنے خوبصورت لان میں گھاس کی بچھی قالین پر ہم لوگوں نے گھر سے ہی تیار کیا گیا ناشتہ کا لطف اٹھایا۔ قطب شاہی باغ میں کئی گنبدوں اور عمارتوں کی مرمتی کا کام جاری پایا۔ محکمہ آثار قدیمہ انھیں محفوظ رکھنے کی ہر ممکن سعی کر رہا ہے جو لایق تحسین قدم ہے۔

اس احاطے کی سیر میں خصوصاً اور دوسرے مقامات پر عموماً یہ محسوس اور مشاہدہ کیا کہ غیر مسلم افراد بہت کم تعداد میں گھومنے آئے ہیں جبکہ مسلم اور خاص کر ان کی مستورات آبادی کے تناسب کے لحاظ سے کافی تعداد میں سیر سپاٹے میں مشغول ہیں۔ مرد حضرات تو بس بطور محافظ یا برکت کے واسطے موجود تھے۔ اس سے مسلمانوں میں پیدا بے روزگاری کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے! مسلم عورتوں میں اکثر تعلیم کا فقدان ہے، سروسز میں نہیں کے برابر ہیں۔ دل تو وہ بھی رکھتی ہیں جو دھڑکنا بھی جانتا ہے، گھومنا پھرنا بھی چاہتا ہے۔ موجودہ زمانے کی روش اور سرگرمیوں سے آشنا بھی ہونا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے مسلمانوں کے حوالے سے تاریخی مقامات سے بہتر جگہ کیا ہوسکتی ہے۔ نتیجتاً یہ نقاب پوش عورتیں ہر جگہ کثیر تعداد میں اپنی موجودگی درج کراتی نظر آتی ہیں جسے اپنے روز مرہ کے مشغول اور قیمتی اوقات سے (جو زیادہ تر فکر و تردد پر مشتمل ہوتے ہیں) اپنا دل بہلانے یا کہئے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر فرصت نکال ہی لیتی ہیں۔

دوسرے دن ہم لوگ مشہور و معروف مرکزی یونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی دیکھنے گیے۔ جسے دیکھنے کا مجھے کافی اشتیاق تھا۔ افسوس کہ جانے میں دیر ہوگئی۔ شام ہو چکی تھی۔ سورج کی سیاہی پورے کیمپس کو اپنے آغوش میں لے چکی تھی۔ اس لئے مختلف شعبہ کا دیدار تو نہیں کر سکا البتہ اس کے مین بلڈنگ کی پر شکوہ عمارت نے بہت متاثر کیا جس پر کئی رنگوں کی روشنی اپنا جلوہ بکھیر رہی تھی۔ اس کے پاس بھی ایک یادگار تصویر لینے کے بعد ہم واپس ہو گئے۔ ایک شام ہم لوگ عثمان ساگر بھی دیکھنے گئے۔ یہ حسین ساگر سے بھی رقبہ اور گہرائی میں بڑا تالاب ہے۔ ان دونوں مصنوعی تالابوں کی تعمیر قطب شاہی اور نظام حکومت کے دوران آبپاشی کے مد نظر کی گئی تھی۔ اس سے اب بھی حیدرآباد اور مضافات کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ کثیر تعداد میں سیاحوں کی آمد سے ایک خطیر رقم کی آمدنی بھی متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ہوتی ہے۔

اب 12ستمبر کی تاریخ قریب آچکی تھی۔ اپوانٹمنٹ کے مطابق 12 ستمبر کو ماہر قلب ڈاکٹر انوج کپاڈیا سے ملا۔ گزشتہ رپورٹ کی بنیاد پر انہوں نے انجو گرافی کے لئے میرا داخلہ لے لیا۔ دوسرے دن 13 ستمبر کو انجو گرافی کی گئی اور جیسا کہ خدشہ تھا، شریان کی ایک شاخ میں زیادہ بلاکیج تھا۔ ڈاکٹر نے انجیوپلاسٹی کرنے کا مشورہ دیا جسے مان لینا ہی عقلمندی تھی۔ اگلے دن 14 ستمبر کو الحمدللہ کامیاب انجیوپلاسٹی کی گئی اور ایک اسٹنٹ ڈالا گیا۔ اس کے بعد ایک دن آئی سی یو میں رکھنے کے بعد مجھےکمرے کے بستر پر شفٹ کردیا گیا۔ ہم لوگوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ میرے لب پہ بے ساختہ یہ شعر آگیا

رفوئے قلب و جگر سے گزر کے زندہ ہوں
خدا کا شکر بے خوف و خطر کے زندہ ہوں

اسپتال کی نرسنگ لاجواب پایا اور کوئی پریشانی یا تکلیف نہیں ہوئی۔ گرچہ گھر کا بدل اسپتال تو نہیں ہوسکتا۔ پھر بھی وقت پر مناسب کھانا اور ضروری ادویہ ملتی رہیں۔ دوسرے دن ڈاکٹر دیکھنے آئے، کرائی گئی جانچ کی رپورٹ دیکھی اور 16 ستمبر کو چھٹی دے دی گئی۔ حالانکہ بل تیار کرنے اور اس کی ادائیگی میں تاخیر کے سبب رات 12 بجے فرصت مل سکی اور اپنی اہلیہ و داماد کے ہمراہ بخیر خوبی رہائش گاہ آ گیا۔

اب گھر پر دو دو مریض ہو گئے۔ ایک میں اور دوسرے میرے نواسہ حماد جن کے ختنہ کا زخم ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوسکا تھا۔ وہ بار بار میری طرف سوالیہ نگاہ دوڑاتے رہتے اور عجیب شش و پنج میں مبتلا تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں نانا ابو کے ساتھ بھی کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا۔ بہر کیف۔ گھر بھی ایک عارضی نرسنگ ہوم میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ڈاکٹر نے مجھے ایک ہفتے بعدکچھ ضروری جانچ کرانے کے بعد ریویو کے لئے بلایا تھا۔ 25 ستمبر کو ڈاکٹر نے دیکھا اور دوا میں کچھ کمی بیشی کی اور گھر یعنی رانچی جانے کی اجازت دے دی۔ احتیاطاً دو چار دن وہاں اور ٹھہرنے کے بعد رانچی کے لئے 1 اکتوبر کو روانہ ہوا۔

حیدرآباد کو ایک زندہ شہر پایا۔ شام ہوتے ہی بازار کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں۔ یہاں کھانے پینے کی چیزیں وافر مقدار میں ہر جگہ دستیاب ہیں، لوگ بھی کھانے پینے کے شوقین ہیں۔ ریستوران، چائے خانوں وغیرہ میں کافی بھیڑ بھاڑ نظر آتی ہے۔ حیدرآبادی بریانی کے علاوہ یہاں کئی طرح کی چائے پینے کا اتفاق ہوا۔ مثلاً ایرانی چائے، پستہ والی چائے اور پھر ہوٹل نیلوفر کی مشہور چائے۔ سبھی چائے کے الگ الگ زائقے۔

جہاں پر میرا قیام تھا اس کے پاس ہی ایک مسجد تھی جو مسجد گنبد کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اکثر نماز اور جمعہ کی نماز ادا کرنے اسی مسجد جانا ہوتا تھا۔ اس مسجد کی خاص بات جو میں نے محسوس کی اور دیکھا وہ یہ کہ اس مسجد کے پیش امام بریلوی اور دیوبندی مسلک دونوں سے ہیں۔ جبکہ مقتدیوں کی اکثریت اہل حدیث کی۔ جمعہ کی نماز کے بعد درود و سلام کا نذرانہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔۔ فضائل اعمال کا بھی درس ہوتا ہے۔ کسی کو کسی پر اعتراض نہیں۔

یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ رانچی واپسی سے ایک ہفتہ قبل میری چھوٹی بیٹی غانیہ جو آئی آئی ٹی دہلی میں زیر تعلیم ہیں، مجھ سے ملنے حیدرآباد آگئیں ۔ خوشی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اچانک بیٹی فارعہ اور داماد ندیم انور لندن سے حیدرآباد ملنے پہنچ گئے۔ دراصل ان کے انڈیا آنے کا پروگرام پہلے سے تھا۔ ہم لوگوں کے حیدرآباد میں رہنے کی وجہ کر رانچی کے بدلے سیدھے حیدرآباد کی ٹِکٹ کرالی جس کی پیشگی خبر ہم لوگوں کو نہیں دی گئی تھی۔ اس طرح سرپرائز وزٹ سے ہم لوگ حیرت زدہ بھی ہوئے اور یہ مسرت میں اضافے کا باعث بھی۔ اس طرح گھر کے تقریباً سبھی افراد صرف چھوٹے بیٹے احزم عزیر کو چھوڑ کر جو پٹنہ میں پوسٹیڈ ہیں، یکجا ہونے کے سبب رانچی اور حیدرآباد کا فرق جاتا رہا اور گھر کا ماحول ملنے خصوصاً نواسہ کے ساتھ رہنے سے ایک گھریلو احساس ہوا اور حیدرآباد میں ایک ماہ پانچ روز کیسے گزر گئے پتہ ہی نہیں چلا۔

جیساکہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں اور یہ سبھی جانتے ہیں کہ حیدرآباد ادب کا گہوارہ ہے یہاں اردو ادب کے شعراء اور ادباء اکثر ادبی محفلیں سجاتے رہتے ہیں۔ میرے حیدرآباد جانے کی خبر سوشل میڈیا سے ڈاکٹر اے کے علوی صاحب ، سہسرام کو تھی۔ انہوں نے یہ خبر حیدرآباد میں مقیم ڈاکٹر مختار احمد فردین صاحب کو دے دی۔ جناب فردین نہایت ہی مخلص، ادب نواز شخصیت ہیں۔ انھوں نے بینک میں چیف مینیجر کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد پوری طرح سماجی اور ادبی کاموں سے خود کو منسلک کر رکھا ہے۔ جناب آل انڈیا اردو ماس کمیونیکیشن فار پیس کے صدر بھی ہیں۔ حسب روایت اردو زبان و ادب کے مہمانوں کا حیدرآباد آنے پر والہانہ استقبال کرتے ہیں اور ان کے اعزاز میں شعری نشست کا اہتمام کرتے ہیں۔ لہذا معلوم ہونے پر انہوں نے مجھ ناچیز سے بھی رابطہ قائم کیا اور ایک شعری نشست کا اہتمام بھی کیا(“ڈاکٹر مختار احمد فردین کا احساس ہے کہ یوں تو اردو دنیاءے ادب کے شخصیات سے ملاقات ہوئی ہے’احمد فراز، فیض احمد فیض، گلزار دہلوی، راحت اندوری، اچاریہ جمال الدین جمال صابر حلیم، صلاح الدین نیر نواز دیوبندی، اے کے علوی، پروفیسرڈاکٹر وکیل صاحب عزیر حمزہ پوری صاحب کی شخصیت کچھ الگ ہی پاءے گیے جو کہ خود سے نا آشنا شخصیت کے مالک مگر انمول رتن سے کم نہیں، انکے مضمون کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پسند دیدگی کی مثال ہے اس حیدرآباد کے لوگاں کے لئے جس شہر کے بادشاہ وقت نے دعاء کی تھی کہ۔۔۔۔۔”) مگر شومیء تقدیر کہ اس دن میں اسپتال میں زیر علاج تھا سو معذرت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بہرکیف، 29ستمبر کو وہ خود میرے رہائش گاہ پر پہنچ کر میرے داماد انجنیئر معراج نواز اور دیگر لوگوں کی موجودگی میں میری شال پوشی کی اور زبان و ادب کی خدمات کے اعتراف میں اردو انمول رتن ایوارڈ سے نوازا جس کے لئے میں دل کی عمیق گہرائیوں سے ان کا اور تنظیم کا ممنون ہوں۔ اسے دوسرے دن مقامی اخبار میں خصوصی طور پر شایع کیا گیا۔

آپ نے مجھے اپنی دو کتابیں ‘پرورش لوح وقلم’ اور ‘قلمی سفر’ بھی تحفتاً عنایت کیں۔ بعدہٗ میں نے اپنی حالیہ منظر عام پر آئیں دو کتابیں “شعور سخن” اور “اظہار افکار” بھی ان کی خدمت میں بھیجا۔ اس طرح جناب ڈاکٹر مختار احمد فردین نے اپنے ادب نوازی کا ثبوت دے کر اور اس خاکسار کو انعام و اکرام سے نواز کر میرے حیدرآباد کے اس سفر کو اہم اور یادگار بنا دیا۔
عزیر حمزہ پوری (کڈرو، رانچی)